حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے قم میں نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ رہبر شہید انقلاب صرف ایک سیاسی و دینی شخصیت نہیں بلکہ عالم اسلام اور تمام آزادی پسندوں کے لیے مرجع دینی و معنوی رہنما تھے۔ انہوں نے ایران کی اسلامی حکمرانی کا ایک ممتاز نمونہ پیش کرتے ہوئے اسلامی شناخت اور قومی عزت کو باہم جوڑا۔
انہوں نے رہبر شہید کی لاکھوں افراد پر مشتمل تشییع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کی سڑکوں پر عوام کا یہ عظیم اجتماع محض سوگ کا مظہر نہیں بلکہ امت اور رہبر کے ناقابلِ شکست رشتے اور ولایت فقیہ سے عوام کی وابستگی کا واضح ثبوت تھا۔ ان کے بقول، دشمنوں نے برسوں امت اور رہبر کے درمیان تعلق توڑنے کے لیے کوششیں کیں، لیکن عوام کا یہ شاندار میثاق استکبار کے خلاف ایک بڑا انکار تھا۔
آیت اللہ سعیدی نے ولادت رسول اکرم (ص) اور ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو قرآن، روایات اور ائمہؑ کی سیرت کا مستقل اصول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صہیونی دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو حبل اللہ اور عصر غیبت میں ولایت فقیہ کے محور پر متحد رہنا چاہیے۔
خطیب نماز جمعہ نے ہفتۂ حکومت کے موقع پر شہید رجائی و شہید باہنر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکام سے عوامی مسائل، خصوصاً معاشی مشکلات اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دفاعی صنعت کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے شہید محسن فخری زادہ سمیت اس شعبے کے شہداء کو خراج پیش کیا۔
امام حسن عسکریؑ کی شہادت اور امام زمانہؑ کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکریؑ نے معاشرے کو زمانۂ غیبت کے لیے تیار کیا۔ ان کے مطابق حقیقی انتظار محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ عملی، متحرک اور پُرعزم جدوجہد کا نام ہے، جس کے لیے توسل، تاسی، تواصی اور تیاری بنیادی ارکان ہیں۔
آیت اللہ سعیدی نے پہلے خطبے میں مسجد کے مقام و کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اسلامی معاشرے کا ایک بنیادی اور مقدس مرکز ہے۔ انہوں نے قرآن کی روشنی میں مسجد کے متولیان اور منتظمین کے لیے ایمان، آخرت پر یقین، نماز، زکوٰۃ اور تقویٰ الٰہی کو بنیادی شرائط قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن عناصر مسجد کو غیر مؤثر بنانے یا اس کے اسلامی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مسجد کو محلے میں اتحاد، تربیت، ثقافتی سرگرمیوں، عوامی مسائل کے حل اور اسلامی تمدن سازی کا مرکز بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام جماعت صرف نماز پڑھانے والا نہیں بلکہ پورے محلے کا رہنما ہونا چاہیے۔ مساجد کو نوجوانوں سے جوڑ کر انہیں سماجی و ثقافتی میدان میں فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خطیب نماز جمعہ نے کہا کہ محلے کی سطح پر مساجد کو فعال بنا کر عفاف، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور دیگر معاشرتی و ثقافتی مسائل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مساجد کو اسلامی معاشرے کے مؤثر مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کردار ادا کریں۔









آپ کا تبصرہ